الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4963. 34- باب قوله: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (72)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ”بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا، اور وہ جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی، وہی لوگ ایک دوسرے کے (حقیقی) رفیق و مددگار ہیں، اور وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی، تمہارا ان کی حمایت و رفاقت سے کوئی تعلق نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کر لیں، البتہ اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے، سوائے اس قوم کے خلاف جس کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہو، اور اللہ تمہارے تمام اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: Q12423
قوله تعالى: أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ
حدیث نمبر: 12423
12423- عن جريرقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المهاجرون والأنصار بعضهم أولياء بعض في الدنيا والآخرة، والطلقاء من قريش، والعتقاء من ثقيف بعضهم أولياء بعض إلى يوم القيامة.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أحمد (19215)، والطبراني في الكبير (2/356-357)، وصحّحه ابن حبان (7260) كلهم من طريق عاصم بن أبي النجود، عن أبي وائل، عن جرير فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12423 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه أحمد (19215)، والطبراني في الكبير (2/356-357)، وصحّحه ابن حبان (7260) كلهم من طريق عاصم بن أبي النجود، عن أبي وائل، عن جرير فذكره.
0
وإسناده حسن من أجل الكلام في عاصم بن أبي النجود، غير أنه حسن الحديث.
0
قوله: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا
0
هذه الآية تدل على وجوب الهجرة في عهد النبي صلى الله عليه وسلم قبل فتح مكة، وأما بعد فتح مكة فقد ثبت في الصحيح قوله صلى الله عليه وسلم: ((لا هجرة بعد الفتح)) وكذلك لا تجب الهجرة على من يعيش بين المشركين والكفار، وله حرية في العبادة، وإظهار شعائر الإسلام، وعليه يدل قول عائشة رضي الله عنها.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12423 in Urdu