الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5005. 40- باب قوله: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں کہ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر اور ان مہاجرین و انصار پر اپنی رحمت و عنایت فرمائی جنہوں نے نہایت تنگی اور عسرت کی گھڑی میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جانے کے قریب ہو چکے تھے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر توجہ کی، بلاشبہ وہ ان کے حق میں نہایت شفیق اور نہایت مہربان ہے؛ اور ان تینوں اشخاص پر بھی اللہ نے اپنی رحمت فرمائی جن کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں خود ان پر بوجھ بن گئیں اور انہوں نے کامل یقین کر لیا کہ اللہ کی گرفت سے خود اسی کی بارگاہ میں پناہ لینے کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، پھر اللہ نے ان پر اپنی توجہ مبذول فرمائی تاکہ وہ تائب ہو جائیں، یقیناً اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔“
حدیث نمبر: Q12524
قوله: سَاعَةِ الْعُسْرَةِ أي في زمن العسرة، وكانت غزوة تبوك تُسمى غزوة العسرة، والجيش يسمى جيش االعسرة. وقوله: كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ أي تميل إلى التخلف والانصراف للعسرة، فإنه قد همَّ فريق منهم بالتخلف ثم لحقوهم، لا المراد منه الزيغ عن الدين، وقد وصف شدة هذه الغزوة عمر بن الخطاب في الحديث الآتي:
حدیث نمبر: 12524
12524- عن عبدالله بن عباس، أنه قيل لعمر بن الخطاب: حدِّثنا من شأن العسرة، قال: خرجنا إلى تبوك في قيظ شديد، فنزلنا منزلا أصابنا فيه عطش، حتى ظننا أن رقابنا ستنقطع، حتى أن الرجل ليذهب فيلتمس الماء، فلا يرجع حتى نظن أن رقبته ستنقطع، حتى أن الرجل لينحر بعيره، فيعصر فرثه، فيشربه، ويجعل ما بقي على كبده، فقال أبو بكر الصديق: يا رسول الله! قد عودك الله في الدعاء خيراً، فادع لنا، فقال: أتحب ذلك؟ قال: نعم، فرفع يديه صلى الله عليه وسلم، فلم يرجعهما، حتى أظلت سحابة، فسكبت، فملؤوا ما معهم، ثم ذهبنا ننظر، فلم نجدها جاوزت العسكر.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه ابن حبان (1383)، والبزار –كشف الأستار (1841)، والحاكم (1/159)، والبيهقي في الدلائل (5/231) كلهم من حديث ابن وهب، قال: أخبرنا عمرو بن الحارث، عن سعد بن أبي هلال، عن عتبة بن أبي عتبة، عن نافع بن جبير، عن عبد الله بن عباس فذكره.وإسناده صحيح.وقال الحاكم: " صحيح على شرط الشيخين".»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12524 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه ابن حبان (1383)، والبزار –كشف الأستار (1841)، والحاكم (1/159)، والبيهقي في الدلائل (5/231) كلهم من حديث ابن وهب، قال: أخبرنا عمرو بن الحارث، عن سعد بن أبي هلال، عن عتبة بن أبي عتبة، عن نافع بن جبير، عن عبد الله بن عباس فذكره.وإسناده صحيح.وقال الحاكم: " صحيح على شرط الشيخين".
0
تنبيه: سقط من إسناد ابن حبان "عتبة بن أبي عتبة".
0
وقوله: ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ كرر ذكر التوبة بعد أن ذكر في أول الآية: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فذكر التوبة في أول الآية للنبي صلى الله عليه وسلم لجميع أصحابه الذين خرجوا في غزوة العسرة، وذكر التوبة الثانية للذين أرادوا التخلف والانصراف لشدة الساعة ثم مضوا ولم يتخلفوا.
0
وقوله: إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ختم الله بهذه البشرى للجميع الذين خرجوا في غزوة العسرة بأنه سبحانه وتعالى قبل توبتهم، ومن تاب الله عليه لم يعذبه أبدا.
0
وقوله: وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا هم كعب بن مالك، ومرارة بن ربيع العمري، وهلال بن أمية الواقفي، وتفصيل قصتهم في الحديث الآتي:
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12524 in Urdu