الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5048. 14- باب قوله: وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (100)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ”اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بلند بٹھایا اور وہ سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے اور اس نے کہا اے میرے ابا جان! یہ میرے اس سابقہ خواب کی تعبیر ہے، جسے میرے رب نے یقیناً سچ کر دکھایا ہے، اور اس نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے یہاں لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، بے شک میرا رب جس کے لیے چاہے نہایت باریک بین اور لطیف تدبیر والا ہے، یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے“۔
حدیث نمبر: 12572
12572- عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو كنت آمِرًا أحدا أن يسجد لأحدٍ لأمرتُ المرأة أن تسجد لزوجها.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه الترمذي (1159)، والبيهقي (7/291)، وابن أبي الدنيا في العيال (534) كلهم من حديث النضر بن شميل، أنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12572 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه الترمذي (1159)، والبيهقي (7/291)، وابن أبي الدنيا في العيال (534) كلهم من حديث النضر بن شميل، أنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة فذكره.
0
وإسناده حسن من أجل محمد بن عمرو وهو ابن علقمة الليثي، فإنه حسن الحديث.
0
وقيل: إن أم يوسف قد ماتت وإنما جاء يعقوب بخالته، والقرآن صريح في ذكر أبويه، ولم يردْ حديث صحيح في وفاة أم يوسف.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12572 in Urdu