الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5140. 9- باب قوله: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا (60) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا (61) فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا (62) قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا (63) قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (64) فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا (65) قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (66) قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (68) قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا (69) قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا (70) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا (71) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (72) قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (73) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76) فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77) قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78) أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا (79) وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81) وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (82)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں ہے ”اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ میں سفر جاری رکھوں گا یہاں تک کہ دو سمندروں کے سنگم تک پہنچ جاؤں یا میں مدتوں چلتا رہوں گا (60) پھر جب وہ ان دونوں کے سنگم پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، پس اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ بناتے ہوئے اپنا راستہ بنا لیا (61) پھر جب وہ اس جگہ سے آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا کھانا لاؤ، بے شک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی تھکاوٹ پیش آئی ہے (62) خادم نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا! جب ہم نے اس چٹان کے پاس پناہ لی تھی تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا تھا، اور مجھے اسے یاد دلانے سے شیطان ہی نے غافل کر دیا تھا، اور اس نے سمندر میں بڑے عجیب طریقے سے اپنا راستہ بنا لیا (63) موسیٰ نے کہا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی ہمیں تلاش تھی، چنانچہ وہ اپنے قدموں کے نشانات ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے (64) پھر انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی تھی اور اسے اپنے پاس سے (علمِ لدنی) سکھایا تھا (65) موسیٰ نے ان سے کہا کہ کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چل سکتا ہوں کہ آپ مجھے اس رشد و ہدایت کے علم میں سے کچھ سکھائیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے؟ (66) انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکیں گے (67) اور آپ اس چیز پر بھلا کیسے صبر کریں گے جس کی حقیقت تک آپ کے علم کی رسائی نہیں ہے (68) موسیٰ نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا (69) انہوں نے کہا کہ اگر آپ میرے پیچھے چلنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیجیے گا یہاں تک کہ میں خود اس کا تذکرہ آپ سے نہ کر دوں (70) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس (بندے) نے اس میں شگاف ڈال دیا، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے اس میں شگاف اس لیے ڈالا ہے کہ اس کے سواروں کو ڈبو دیں؟ یقیناً آپ نے ایک بہت خطرناک کام کیا ہے (71) انہوں نے کہا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکیں گے؟ (72) موسیٰ نے کہا کہ میری بھول پر میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھ پر تنگی نہ ڈالیں (73) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اس (بندے) نے اسے قتل کر دیا، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دیا؟ بے شک آپ نے ایک نہایت ناپسندیدہ کام کیا ہے (74) انہوں نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکیں گے؟ (75) موسیٰ نے کہا کہ اگر اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیے گا، یقیناً آپ میری طرف سے عذر کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں (76) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرنے ہی والی تھی تو اس (بندے) نے اسے سیدھا کر دیا، موسیٰ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے (77) انہوں نے کہا کہ اب یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کر سکے (78) رہی وہ کشتی، تو وہ ان مسکینوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ ان کے آگے ایک ایسا بادشاہ تھا جو ہر (صحیح) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا (79) اور رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ اپنی سرکشی اور کفر سے ان دونوں کو تنگ کرے گا (80) اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب انہیں اس کے بدلے میں ایسی اولاد عطا فرمائے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت و شفقت میں اس سے زیادہ قریب ہو (81) اور رہی وہ دیوار، تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک شخص تھا، پس آپ کے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، یہ آپ کے رب کی طرف سے ایک رحمت تھی، اور یہ سب میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے (82)“۔
حدیث نمبر: 12690
12690- عن أُبيّ بن كعب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنّ الغلامَ الذي قتله الخَضِرُ طُبعَ كافراً، ولو عاش لأَرهقَ أبويه طغياناً وكفراً.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في القدر (2661) عن عبدالله بن مسلمة، حدثنا معتمر بن سليمان، عن أبيه، عن رَقبة بن مسقلة، عن أبي إسحاق، عن سعيد ابن جبير، عن ابن عباس، عن أبي بن كعب فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12690 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في القدر (2661) عن عبدالله بن مسلمة، حدثنا معتمر بن سليمان، عن أبيه، عن رَقبة بن مسقلة، عن أبي إسحاق، عن سعيد ابن جبير، عن ابن عباس، عن أبي بن كعب فذكره.
0
قوله: "مؤمنين" أي على دين إبراهيم عليه السلام.
0
وقوله: "طُبِعَ كافرًا" أي إذا كبُرَ وعاشَ.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12690 in Urdu