الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5254. 18- باب قوله: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (55)
”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، یہ پختہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت و اقتدار عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو، جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، ضرور تمکین و استحکام عطا کرے گا، اور ان کے خوف کی حالت کو بدل کر امن و امان کی کیفیت عطا فرما دے گا، وہ میری ہی بندگی کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر و ناشکری کرے تو وہی لوگ فاسق و نافرمان ہیں۔“
حدیث نمبر: 12895
12895- عن معاذ بن جبل قال: كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له عفير، فقال: يا معاذ، هل تدري حق الله على عباده. وما حق العباد على الله؟ قلت: الله ورسوله أعلم. قال: فإن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا، وحق العباد على الله أن لا يعذّب من لا يشرك به شيئا فقلت: يا رسول الله، أفلا أبشّر به الناس؟ قال: لا تُبشّرهم، فيتكلوا.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في الجهاد والسير (2856)، ومسلم في الإيمان (30/49) كلاهما من حديث أبي الأحوص سلّام بن سُليم، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معاذ بن جبل، فذكره. ولفظهما سواء.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12895 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
متفق عليه: رواه البخاري في الجهاد والسير (2856)، ومسلم في الإيمان (30/49) كلاهما من حديث أبي الأحوص سلّام بن سُليم، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معاذ بن جبل، فذكره. ولفظهما سواء.
0
والأحاديث في هذا المعنى كثيرة، وهي مذكورة في كتاب الإيمان.
0
وما وعد الله في هذه الآية قد تم في عهد الصحابة، فمكنهم الله من البلاد والعباد. وحصل لهم الأمن التام، فكانوا يعبدون الله وحده، لا شريك له من غير خوف ووجل. ولا تزال طائفة من المسلمين يعبدون الله وحده في أرجاء المعمورة مع التمكين والأمن، كما جاء في الصحيح.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12895 in Urdu