الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5255. 19- باب قوله: لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (61)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں کہ ”نہ اندھے پر کوئی تنگی ہے، نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ ہی بیمار پر کوئی گرفت ہے، اور نہ ہی خود تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں، یا اپنے دوست کے گھر سے؛ تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ؛ پھر جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے؛ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم عقل و فہم سے کام لو۔“
حدیث نمبر: 12902
12902- عن جابر بن عبد الله يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الأربعة، وطعام الأربعة يكفي الثمانية.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الأشربة (2059) من طرق عن ابن جريج، أخبرني أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبدالله يقول: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12902 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في الأشربة (2059) من طرق عن ابن جريج، أخبرني أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبدالله يقول: فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12902 in Urdu