الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5345. 3- باب قوله: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (6)
باری تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں ہے کہ ”نبی مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم اور اولیٰ ہیں اور آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات ان کی مائیں ہیں، اور اللہ کے قانونِ (وراثت) میں عام مؤمنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسنِ سلوک کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ الٰہی میں پہلے ہی سے مرقوم ہے۔“
حدیث نمبر: Q13035
قوله: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
حدیث نمبر: 13035
13035- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدَّيْنُ، فيسأل: هل ترك لدينه فضلا؟. فإنْ حُدِّث أنه ترك لدينه وفاءً صلّى، وإلا قال للمسلمين: صلّوا على صاحبكم. فلما فتح الله عليه الفتوح قال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دَينا، فعليَّ قضاؤه، ومن ترك مالا فلورثته.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في الكفالة (2298)، ومسلم في الفرائض (1619) كلاهما من طريق ابن شهاب الزهري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة فذكره. واللفظ للبخاري ولفظ مسلم نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13035 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
متفق عليه: رواه البخاري في الكفالة (2298)، ومسلم في الفرائض (1619) كلاهما من طريق ابن شهاب الزهري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة فذكره. واللفظ للبخاري ولفظ مسلم نحوه.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13035 in Urdu