الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5354. 12- باب قوله: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا (37)
”اور (اے نبی!) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا کہ ”اپنی زوجہ کو اپنے پاس ہی رہنے دو اور اللہ سے ڈرو“، اور آپ اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں (کی طعنہ زنی) سے اندیشہ کر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے اس (خاتون) سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر ان کے لے پالک بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر لیں، اور اللہ کا حکم تو (ہر حال میں) پورا ہو کر رہنے والا تھا“۔
حدیث نمبر: 13074
13074- عن عائشة قالت: ولو كان محمد صلى الله عليه وسلم كاتما شيئا مما أنزل عليه لكتم هذه الآية: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الإيمان (177: 288) عن محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا داود، عن الشعبي، عن مسروق، قال: كنت متكئا عند عائشة فقالت: فذكرته في حديث طويل.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13074 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في الإيمان (177: 288) عن محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا داود، عن الشعبي، عن مسروق، قال: كنت متكئا عند عائشة فقالت: فذكرته في حديث طويل.
0
وقوله: وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ: الذي أخفاه النبي صلى الله عليه وسلم في نفسه في ذلك الوقت:هو إرادته أنه إِنْ طلق زيد بن حارثة زوجته زينب بنت جحش فإنه يتزوجها، وذلك جبرًا لخاطرها لأنها تزوجت بأمر النبي صلى الله عليه وسلم وكانت من سادات قريش. وهذا أظهر الأقوال في تفسير هذه الآية الكريمة.
0
وقد ذكر ابن جرير الطبري وغيره آثارا وأقوالا لا يليق بمقام النبوة.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13074 in Urdu