الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5361. 19- باب قوله: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (50)
”اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیے ہیں، اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ کے عطا کردہ مالِ غنیمت میں سے آپ کی ملکیت میں آئیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی وہ بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومنہ عورت جو خود کو نبی کے لیے ہبہ کر دے بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کا ارادہ فرمائیں؛ یہ (حکم) خاص طور پر صرف آپ ہی کے لیے ہے، دیگر مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو کچھ ہم نے عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور ان کی مملوکہ لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (یہ رعایت اس لیے دی گئی) تاکہ آپ پر (نکاح کے معاملے میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 13086
13086- عن أنس بن مالك، أنَّ امرأةً أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! ابنة لي كذا وكذا- ذكرت من حسنها وجمالها- فآثرتك بها. فقال: قبلتُها. فلم تزل تمدحها حتَّى ذكرت أنَّها لم تُصدَّع، ولم تشتكِ شيئاً قطُّ. قال: لا حاجة لي في ابنتك.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أحمد (12580) وأبو يعلى (4234) كلاهما من حديث عبدالله بن بكر، أبي وهبٍ، حدثنا سنان بن ربيعة، عن الحضرمي، عن أنسٍ، فذكره .»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13086 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه أحمد (12580) وأبو يعلى (4234) كلاهما من حديث عبدالله بن بكر، أبي وهبٍ، حدثنا سنان بن ربيعة، عن الحضرمي، عن أنسٍ، فذكره .
0
وإسناده حسن؛ من أجل سنان بن ربيعة، وهو مختلف فيه، غير أنَّه حسن الحديث، والكلام عليه مبسوط في كتاب الجنائز.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13086 in Urdu