الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5400. 5- باب قوله: أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (77) وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (78) قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (79) الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ (80) أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (81) إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (82) فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (83)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر وہ اچانک صریح جھگڑا کرنے والا بن گیا، اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا کہ ”ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب کہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟“ آپ فرما دیجیے کہ ”انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور وہ ہر طرح کی تخلیق کا بخوبی جاننے والا ہے، وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو، کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کر دے؟ کیوں نہیں! اور وہی تو اصل پیدا کرنے والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے، اس کا حکم تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے، پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے“۔
حدیث نمبر: 13156
13156- عن ابن عباس أن العاصي بن وائل أخذ عظما من البطحاء، ففتّه بيده، ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أيحيي الله تعالى هذا بعد ما أرى؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم، يميتك الله، ثم يحييك، ثم يدخلك جهنم. قال: ونزلت الآيات من آخر يس.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه ابن أبي حاتم – كما ذكره ابن كثير-، وابن جرير الطبري في تفسيره (19/487)، والحاكم (2/429) كلهم من طرق عن هشيم، أخبرنا أبو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، فذكره. وإسناده صحيح إلا أن ابن جرير ذكره عن سعيد بن جبير مرسلا، ولم يذكر ابن عباس، ولكن الحكم لمن وصل.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13156 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه ابن أبي حاتم – كما ذكره ابن كثير-، وابن جرير الطبري في تفسيره (19/487)، والحاكم (2/429) كلهم من طرق عن هشيم، أخبرنا أبو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، فذكره. وإسناده صحيح إلا أن ابن جرير ذكره عن سعيد بن جبير مرسلا، ولم يذكر ابن عباس، ولكن الحكم لمن وصل.
0
وقال الحاكم: "هذا حديث صحيح على شرط الشيخين".
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13156 in Urdu