الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5411. 2- باب قوله: قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ (24) فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ(25)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بارے میں کہ ”(داؤد علیہ السلام نے) کہا کہ یقیناً اس نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کر کے تم پر زیادتی کی ہے اور بے شک بہت سے شریک ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی ہی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں، اور داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور وہ عاجزی کے ساتھ گر پڑے اور پوری طرح رجوع لائے، پس ہم نے ان کی اس لغزش کو معاف کر دیا اور یقیناً ہمارے پاس ان کے لیے قربِ خاص کا مقام اور بہترین ٹھکانہ ہے“۔
حدیث نمبر: Q13175
قوله: أَنَّمَا فَتَنَّاهُ في سياق فتنة داود عليه السلام قصص كثيرة ذكرت في كتب التفاسير نقلا من العهد القديم والجديد ما يخدش عصمة الأنبياء، وليس فيها شيء على شرط الجامع الكامل، فلذا أعرضت عنها.
وقوله: وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ أي: سجد لله، وأناب إليه.
وقوله: وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ أي: سجد لله، وأناب إليه.
حدیث نمبر: 13175
13175- عن ابن عباس قال: ص ليس من عزائم السجود، وقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يسجد فيها.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في سجود القرآن (1069) من طرق عن حماد، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13175 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه البخاري في سجود القرآن (1069) من طرق عن حماد، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13175 in Urdu