الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5589. 5- باب قوله: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (12)
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومن عورتیں ان شرائط پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری کا ارتکاب نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ ہی کوئی ایسا بہتان لائیں گی جسے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، اور نہ ہی کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی کریں گی، تو آپ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت رحم فرمانے والا ہے“۔
حدیث نمبر: 13538
13538- عن أم عطية قالت: أخذ علينا النبي صلى الله عليه وسلم عند البيعة أن لا ننوح، فما وفت منا امرأة غير خمس نسوة: أم سليم، وأم العلاء، وابنة أبي سبرة امرأة معاذ، وامرأتين. أو ابنة أبي سبرة وامرأة معاذ وامرأة أخرى.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (1306) ومسلم في الجنائز (936) كلاهما من طريق حماد بن زيد، حدثنا أيوب، عن محمد بن سيرين، عن أم عطية، قالت: فذكرته.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13538 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (1306) ومسلم في الجنائز (936) كلاهما من طريق حماد بن زيد، حدثنا أيوب، عن محمد بن سيرين، عن أم عطية، قالت: فذكرته.
0
واللفظ للبخاري، وليس عند مسلم: "وامرأة أخرى".
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13538 in Urdu