الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5608. 2- باب قوله: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (3)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدتِ اختتام کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انہیں بھلے طریقے سے (رجوع کر کے اپنے نکاح میں) روک لو یا پھر معروف طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ، اور اپنے میں سے دو عادل اشخاص کو گواہ بنا لو اور اللہ کی رضا کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو، یہ وہ بات ہے جس کی نصیحت اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کی کوئی راہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اسے کافی ہے، یقیناً اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اور بے شک اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ و وقت مقرر کر رکھا ہے“۔
حدیث نمبر: Q13577
قوله: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ أي: أشهدوا على الرجعة إذا عزمتم عليها.
حدیث نمبر: 13577
13577- عن عمران بن حصين سئل عن الرجل يطلق امرأته، ثم يقع بها، ولم يُشْهِد على طلاقها، ولا على رجعتها، فقال: طلَّقْت لغير سنة، وراجعت لغير سنة، وأَشْهِدْ على طلاقها وعلى رجعتها، ولا تَعُدْ.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أبو داود (2186) وابن ماجه (2025) كلاهما عن بشير بن هلال الصواف، قال: حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبدالله بن الشخير، أن عمران بن حصين، فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13577 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه أبو داود (2186) وابن ماجه (2025) كلاهما عن بشير بن هلال الصواف، قال: حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبدالله بن الشخير، أن عمران بن حصين، فذكره.
0
وإسناده حسن من أجل جعفر بن سليمان الضبعي، فإنه حسن الحديث.
0
والكلام عليه مبسوط في كتاب الطلاق.
0
والأمر بالإشهاد هنا للندب، وهوكقوله تعالى: وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ [البقرة: ٢٨٢]، والإشهاد في المبايعة ليس بواجب، فكذلك لا يجب الإشهاد عند الرجعة أو العزم على الفراق.
0
وقوله: وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ أي: أن الله يحميه ويكفيه، ولو عاداه الناس وخالفوه، وقد جاء في الحديث.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13577 in Urdu