🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5472. 4- باب قوله: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (15)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق ہے کہ: ”اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی، اس کی ماں نے اسے مشقت کے ساتھ پیٹ میں اٹھایا اور مشقت ہی کے ساتھ اسے جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مجموعی مدت تیس ماہ ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی بھرپور قوت کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کا ہو گیا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ہے، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو جائے، اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح و خیر پیدا فرما، بے شک میں نے تیری ہی طرف رجوع کیا اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوں۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A506
قوله: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا فيها وصية من الله تعالى بالبر بالوالدين والإحسان إليهما والحنو عليهما والشكر والتقدير لهما، وطاعتهما في غير معصية الله ورسوله، والأحاديث في هذا المعنى كثيرة، وللآية سبب نزول، وهي كلها مذكورة بالتفصيل في تفسير سورة العنكبوت الآية (8) وفي سورة لقمان الآية (14-15) .
قوله: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا يعني إذا كان أقل مدة الحمل ستة أشهر فيكون أكثر مدة الرضاع أربعة وعشرين شهرا، وإنْ كانتْ مدة الحمل تسعة أشهر فتكون مدة الرضاع واحدا وعشرين شهرا.
وقوله: حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً إلى آخر الآية، يقال: إنها نزلتْ في أبي بكر الصديق فإنه أسلم هو، وأبواه، وذريته عبد الرحمن بن أبي بكر وابن عبد الرحمن أبو عتيق كلهم أدركوا النبي صلى الله عليه وسلم فآمنوا به، ولم يكن ذلك لأحد من الصحابة، وقد استجاب الله دعاءه في والديه وذريته.
وقوله: قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أي ألهمني.

Al-Jami al-Kamil Hadith 0 in Urdu