صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1707. إن الله تعالى إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ....
حدیث نمبر: 1705
«إن الله تعالى إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني أحب فلانا فأحبه فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول: إن الله تعالى يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض وإذا أبغض عبدا دعا جبريل فيقول: إني أبغض فلانا فأبغضه فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلانا فأبغضوه فيبغضونه ثم يوضع له البغضاء في الأرض»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت (بغض) کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو۔ پس وہ سب بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے نفرت و بغض رکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1705]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت (بغض) کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو۔ پس وہ سب بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے نفرت و بغض رکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1771.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sahih al-Jami' al-Saghir wa Ziyadatuhu Hadith 1705 in Urdu