صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7853. يا أبي: إني أقرئت القرآن فقيل لي: على حرف أو ....
اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا ....
حدیث نمبر: 7843
" يا أبي: إني أقرئت القرآن فقيل لي: على حرف أو حرفين؟ فقال الملك الذي معي: قل على حرفين قلت: على حرفين فقيل لي: على حرفين أو ثلاثة؟ فقال الملك الذي معي قل: على ثلاثة قلت: على ثلاثة حتى بلغ سبعة أحرف ثم قال: ليس منها إلا شاف كاف إن قلت: سميعا عليما وإن قلت: عزيزا حكيما ما لم تختم آية عذاب برحمة أو آية رحمة بعذاب"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا گیا: ایک قراءت پر یا دو پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: دو پر کہو۔ میں نے کہا: دو پر۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دو پر یا تین پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: تین پر کہو۔ میں نے کہا: تین پر، یہاں تک کہ سات قراءتوں تک پہنچ گیا۔ پھر فرمایا گیا: ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے، خواہ تم آیت کے آخر میں سمیعاً علیماً کہو یا عزیزاً حکیماً کہو، جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر یا رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7843]
”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا گیا: ایک قراءت پر یا دو پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: دو پر کہو۔ میں نے کہا: دو پر۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دو پر یا تین پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: تین پر کہو۔ میں نے کہا: تین پر، یہاں تک کہ سات قراءتوں تک پہنچ گیا۔ پھر فرمایا گیا: ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے، خواہ تم آیت کے آخر میں سمیعاً علیماً کہو یا عزیزاً حکیماً کہو، جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر یا رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7843]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د] عن أبي. صحيح أبي داود 1327: حم، الطحاوي في [المشكل] .»
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sahih al-Jami' al-Saghir wa Ziyadatuhu Hadith 7843 in Urdu