المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. علي بن رباح اللخمي، عن جبير بن مطعم
علی بن رباح لخمی کی سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 1596
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: كُنْتُ أَكْرَهُ أَذَى قُرَيْشٍ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُوهُ، خَرَجْتُ، حَتَّى لَحِقْتُ بِدَيْرٍ مِنَ الدَّيْرَاتِ، فَذَهَبَ أَهْلُ الدَّيْرِ، إِلَى رَأْسِهِمْ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَهُ حَقُّهُ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ ثَلَاثًا، فَلَمَّا مَرَّتْ ثَلَاثٌ رَأَوْهُ، لَمْ يَذْهَبْ فَانْطَلَقُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: قُولُوا لَهُ قَدْ، أَقَمْنَا لَكَ حَقَّكَ الَّذِي يَنْبَغِي لَكَ، فَإِنْ كُنْتَ وَصِيًّا، فَقَدْ ذَهَبَ وَصِيَّتُكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَاصِلًا، فَقَدْ نَالَكَ أَنْ تَذْهَبَ إِلَى مَنْ تَصِلُ، وَإِنْ كُنْتَ تَاجِرًا، فَقَدْ نَالَكَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى تِجَارَتِكَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ وَاصِلًا، وَلَا تَاجِرًا، وَمَا أَنَا بِنَصِيبٍ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا، فَسَلُوهُ مَا شَأْنُهُ، قَالَ: فَأَتَوْهُ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: لَا، وَاللهِ إِلَّا أَنِّي فِي قَرْيَةِ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ عَمِّي، يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَآذَوْهُ قَوْمُهُ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَقْتُلُوهُ، فَخَرَجْتُ لِأَنْ لَا أَشْهَدَ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَهَبُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ، فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِي قَالَ: هَلُمُّوا، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ، قَصَصِي، وَقَالَ: تَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: وَتَعْرِفُ شَبَهَهُ لَوْ تَرَاهُ مُصَوَّرًا؟، قُلْتُ: نَعَمْ، عَهْدِي بِهِ مُنْذُ قَرِيبٍ، فَأَرَاهُ صُوَرًا مُغَطَّاةً، فَجَعَلَ يَكْشِفُ صُورَةً صُورَةً، ثُمَّ يَقُولُ: أَتَعْرِفُ؟ فَأَقُولُ: لَا، حَتَّى كَشَفَ صُورَةً مُغَطَّاةً، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ أَشْبَهَ شَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الصُّورَةِ بِهِ، كَأَنَّهُ طُولُهُ، وجِسْمُهُ، وَبَعْدَ مَا بَيَّنَ مَنْكِبَيْهِ، قَالَ: قَالَ: فَتَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ؟ قَالَ: أَظُنُّهُمْ قَدْ فَرَغُوا مِنْهُ، قَالَ: وَاللهِ لَا يَقْتُلُوهُ، وَلَيَقْتُلَنَّ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ، وَإِنَّهُ لِنَبِيٌّ، ولَيُظْهِرَنَّهُ اللهُ، وَلَكِنْ قَدْ وَجَبَ حَقُّهُ عَلَيْنَا، فَامْكُثْ مَا بَدَا لَكَ وَادْعُ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَمَكَثْتُ عِنْدَهُمْ حِينًا ثُمَّ، قُلْتُ: لَوْ أَطَعْتُهُمْ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ، فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ، قَامَتْ إِلَيَّ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: قَدْ تَبَيَّنَ لَنَا أَمْرُكَ، وَعَرَفْنَا شَأْنَكَ، فَهَلُمَّ أَمْوَالَ الصِّبْيَةِ الَّتِي عِنْدَكَ أَسْتَوْدَعَكَهَا أَبُوكَ؟، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأَفْعَلُ هَذَا حَتَّى تُفَرِّقُوا بَيْنَ رَأْسِي، وجَسَدِي، وَلَكِنْ دَعُونِي أَذْهِبُ فأَدْفَعُها إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: إِنَّ عَلَيْكَ عَهْدَ اللهِ، وَمِيثَاقَهُ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَبَرُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي فِيمَا يَقُولُ: «إِنِّي لَأَرَاكَ جَائِعًا، هَلُمُّوا طَعَامًا» ، قُلْتُ: لَا آكُلُ حَتَّى أُخْبِرَكَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ آكُلَ أَكَلْتُ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِمَا أَخَذُوا عَلَيَّ، قَالَ: «فَأَوْفِ بِعَهْدِ اللهِ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْ طَعَامِنَا، وَلَا تَشْرَبْ مِنْ شَرَابِنَا»
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے قریش کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا ناپسند تھا، تو جب مجھے یہ گمان ہوا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں گے، تو میں نکل گیا، یہاں تک کہ ایک خانقاہ میں جا پہنچا۔ خانقاہ والے اپنے سربراہ کے پاس گئے اور اسے بتایا، تو اس نے کہا: تین دن تک اس کا حق ادا کرو جیسا کہ اس کے لیے مناسب ہے۔ جب تین دن گزر گئے اور انہوں نے دیکھا کہ وہ (آگے) نہیں جا رہا، تو وہ اپنے سربراہ کے پاس گئے اور اسے بتایا، تو اس نے کہا: اس سے کہو: ہم نے تمہارا حق، جو تمہارے لیے مناسب تھا، ادا کر دیا ہے۔ اگر تم کسی کے وصی ہو تو تمہاری وصیت (کی مدت) گزر چکی، اور اگر تم صلہ رحمی کرنے والے ہو تو اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنے رشتہ داروں کی طرف جاؤ، اور اگر تم تاجر ہو تو اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی تجارت کی طرف نکلو۔ میں نے کہا: میں نہ صلہ رحمی کرنے والا ہوں، نہ تاجر، اور نہ ہی میں کسی حصے میں شریک ہوں۔ وہ لوگ اس کے پاس گئے اور اسے بتایا، تو اس نے کہا: بیشک اس کا کوئی معاملہ ضرور ہے، اس سے پوچھو کہ اس کا معاملہ کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا، تو میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، سوائے اس کے کہ میں ابراہیم علیہ السلام کی بستی میں ہوں، اور میرے چچازاد بھائی، جو گمان کرتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، انہیں ان کی قوم نے ایذا دی، اور مجھے خدشہ ہوا کہ وہ انہیں قتل کر دیں گے، تو میں نکل آیا تاکہ یہ منظر نہ دیکھوں۔ راوی کہتے ہیں: وہ اپنے سربراہ کے پاس گئے اور اسے میری بات بتائی، تو اس نے کہا: اسے لے آؤ۔ چنانچہ میں اس کے پاس آیا اور اسے اپنا پورا قصہ سنایا۔ اس نے کہا: کیا تمہیں خدشہ ہے کہ وہ انہیں قتل کر دیں گے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا اگر تم انہیں تصویر کی صورت میں دیکھو تو ان کی شکل پہچان لو گے؟ میں نے کہا: ہاں، مجھے حال ہی میں ان سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔ چنانچہ اس نے مجھے ڈھکی ہوئی تصویریں دکھائیں، وہ ایک ایک تصویر کھولتا اور کہتا: کیا تم پہچانتے ہو؟ میں کہتا: نہیں، یہاں تک کہ اس نے ایک ڈھکی ہوئی تصویر کھولی، تو میں نے کہا: میں نے اس تصویر سے زیادہ ان سے ملتی جلتی کوئی چیز نہیں دیکھی، گویا یہ ان کا قد اور جسم ہے، اور دونوں کندھوں کے درمیان کا فاصلہ بھی۔ اس نے کہا: تو کیا تمہیں خدشہ ہے کہ وہ انہیں قتل کر دیں گے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے وہ اس معاملے سے فارغ ہو چکے ہوں گے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! وہ انہیں قتل نہیں کریں گے، بلکہ جو ان کے قتل کا ارادہ رکھے گا وہی قتل ہوگا، اور بیشک وہ نبی ہیں، اور اللہ ضرور انہیں غالب کرے گا، لیکن ان کا حق ہم پر واجب ہو چکا ہے، سو جتنا چاہو ٹھہرو اور جو چاہو منگوا لو۔ راوی کہتے ہیں: میں کچھ عرصہ ان کے پاس ٹھہرا رہا، پھر میں نے کہا: کیوں نہ میں ان کی بات مان لوں۔ چنانچہ میں مکہ آیا تو دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف نکال دیا ہے۔ جب میں پہنچا تو قریش میری طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ہمیں تمہارا معاملہ واضح ہو گیا ہے اور ہم نے تمہارا حال جان لیا ہے، تو لاؤ ان بچوں کا مال جو تمہارے پاس ہے اور جو تمہارے باپ نے تمہارے پاس امانت رکھا تھا۔ میں نے کہا: میں یہ ہرگز نہیں کروں گا یہاں تک کہ تم میرے سر اور جسم کو الگ الگ کر دو، لیکن مجھے جانے دو تاکہ میں جا کر یہ مال انہیں دے آؤں۔ انہوں نے کہا: تجھ پر اللہ کا عہد اور اس کا میثاق ہے کہ تو اس کا کھانا نہیں کھائے گا۔ راوی کہتے ہیں: میں مدینہ پہنچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچ چکی تھی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، جو کچھ فرمایا: ”میں تمہیں بھوکا دیکھ رہا ہوں، کھانا لاؤ“، میں نے کہا: میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ میں آپ کو بتا دوں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں کھا لوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جو ان لوگوں نے مجھ سے لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا عہد پورا کرو، اور ہمارا کھانا نہ کھاؤ، اور نہ ہمارا پانی پیو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 144، حدیث 1609»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1596 in Urdu