المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. أبو مسكين الأنصاري، عن ابن أبي ليلى
ابومسکین انصاری کی ابن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16343
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مُوسَى، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ثنا أَبُو مِسْكِينٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: جَلَسْنَا يَوْمًا أَمَامَ بُيُوتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَهْطٍ مِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ، وَرَهْطٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَهْطٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَاخْتَصَمْنَا فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّنَا أَوْلَى بِهِ وَأَحَبُّ إِلَيْهِ؟، قُلْنَا: نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ آمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ وَقَاتَلْنَا مَعَهُ وَكَتِيبَتُهُ فِي نَحَرِ عَدُوِّهِ، فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ، وَقَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونُ: نَحْنُ الَّذِينَ هَاجَرْنَا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَارَقْنَا الْعَشَائِرَ وَالْأَهْلِينَ وَالْأَمْوَالَ، وَقَدْ حَضَرْنَا مَا حَضَرْتُمْ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتُمْ، فَنَحْنُ أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: نَحْنُ عَشِيرَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَضَرْنَا الَّذِي حَضَرْتُمْ وَشَهِدْنَا الَّذِي شَهِدْتُمْ، فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ شَيْئًا» ، فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: «صَدَقْتُمْ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْكُمْ» ، وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ، فَقَالَ: «صَدَقُوا وَبَرُّوا، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ» ، وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ بَنُو هَاشِمٍ، فَقَالَ: «صَدَقُوا وَبَرُّوا، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ؟» ، قُلْنَا: بَلَى، بِأَبِينَا وَأُمِّنَّا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَإِنَّمَا أَنَا أَخُوكُمْ» ، فَقَالُوا: اللهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، «وَأَمَّا أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْكُمْ» ، فَقَالُوا: اللهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، «وَأَمَّا أَنْتُمْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنْتُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ» ، فَقُمْنَا وَكُلُّنَا رَاضٍ مُغْتَبِطٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے سامنے بیٹھے تھے، ہم انصار کی ایک جماعت، مہاجرین کی ایک جماعت اور بنو ہاشم کی ایک جماعت تھی، تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھگڑنے لگے کہ ہم میں سے کون آپ کا زیادہ حق دار اور آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ ہم نے کہا: ہم انصار آپ پر ایمان لائے، آپ کی پیروی کی، آپ کے ساتھ مل کر لڑے، اور آپ کا لشکر دشمن کے سینے پر (ہمارے ہی ساتھ) رہا، لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ہمارے مہاجر بھائیوں نے کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی، اپنے قبیلے، گھر والے اور مال چھوڑ دیے، اور جہاں تم حاضر ہوئے ہم بھی حاضر ہوئے اور جن معرکوں میں تم شریک ہوئے ہم بھی شریک ہوئے، لہٰذا ہم لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ پھر ہمارے بنو ہاشم کے بھائیوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہیں، جہاں تم حاضر ہوئے ہم بھی حاضر ہوئے اور جن معرکوں میں تم شریک ہوئے ہم بھی شریک ہوئے، لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ حق دار اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم کوئی بات کہہ رہے ہو؟“ ہم نے آپ کو اپنی بات بتائی، تو آپ نے انصار سے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، یہ بات تمہارے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے مہاجر بھائیوں نے کیا کہا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے بھی سچ کہا اور نیکی کی بات کہی، یہ بات ان کے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ بنو ہاشم نے کیا کہا، تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے بھی سچ کہا اور نیکی کی بات کہی، یہ بات ان کے خلاف کون رد کر سکتا ہے؟“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کر دوں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ انصار! میں تو تمہارا بھائی ہوں“، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! ہمیں یہ مل گیا۔ ”اور اے گروہ مہاجرین! میں تو تم ہی میں سے ہوں“، تو انہوں نے بھی کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! ہمیں یہ مل گیا۔ ”اور اے بنو ہاشم! تم مجھ سے ہو اور میری طرف ہو“، پھر ہم سب اس حال میں کھڑے ہوئے کہ ہر ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی اور خوش تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16343]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 133، حدیث 293»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16343 in Urdu