المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. قبيصة بن ذؤيب الخزاعي، عن محمد بن مسلمة
قبیصہ بن ذؤیب خزاعی کی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16559
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنَتِهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْئًا، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْضِي لَكِ بِشَيْءٍ، وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ الْعَشِيَّةَ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَدَّةَ أَتَتْنِي تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنَتِهَا، وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ لَهَا فِي الْكِتَابِ شَيْئًا، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِشَيْءٍ، فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهَا شَيْئًا؟، فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» ، فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، فَقَالَ: هَلْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ أَحَدٌ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ"، فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، فَلَمَّا كَانَتْ خِلَافَةُ عُمَرَ جَاءَتْهُ الْجَدَّةُ الَّتِي تُخَالِفُهَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا كَانَ الْقَضَاءُ فِي غَيْرِكِ، وَلَكِنْ إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَالسُّدُسُ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ فَهُوَ لَهَا
قبیصہ بن ذؤیب خزاعی کہتے ہیں: ایک دادی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بیٹے یا بیٹی (کے ترکے) سے اپنی میراث طلب کرنے آئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کچھ نہیں پاتا، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے لیے کسی چیز کا فیصلہ فرماتے سنا ہے، اور میں شام کو لوگوں سے پوچھوں گا۔ جب انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایک دادی میرے پاس اپنے بیٹے یا بیٹی (کے ترکے) سے اپنی میراث پوچھنے آئی ہے، اور میں نے کتاب اللہ میں اس کے لیے کچھ نہیں پایا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لیے کوئی فیصلہ فرماتے نہیں سنا، تو کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھٹا حصہ دیتے دیکھا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا، پھر پوچھا: کیا یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی تھی؟ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھٹا حصہ دیتے دیکھا ہے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو دوسری جانب کی دادی (یعنی نانی) ان کے پاس آئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ فیصلہ تو تمہارے سوا کسی اور کے لیے تھا، لیکن اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو چھٹا حصہ تمہارے درمیان تقسیم ہو گا، اور جو تم میں سے اکیلی ہو گی اسے پورا مل جائے گا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16559]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 228، حدیث 510»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16559 in Urdu