🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
25. أبو السوار العدوي، عن جندب
ابوالسوار عدوی کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ رَهْطًا وَبَعَثَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ أَوْ عُبَيْدَةَ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْطَلِقَ بَكَى صُبَابَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ فَبَعَثَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ مَكَانَهُ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَ الْكِتَابَ حَتَّى يَبْلُغَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَ: «لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ» ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ اسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَخَبَّرَهُمُ الْخَبَرَ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْكِتَابَ، فَرَجَعَ رَجُلَانِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ، فَلَقُوا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ، وَلَمْ يَدْرُوا أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ جُمَادَى، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ قَتَلْتُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} [البقرة: ٢١٧] الْآيَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَكُونُوا أَصَابُوا وِزْرًا فَلَيْسَ لَهُمْ أَجْرٌ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ}
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا ایک دستہ بھیجا اور ان پر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ - یا عبیدہ - کو امیر بنایا۔ جب وہ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بچھڑنے کے غم میں رو پڑے، چنانچہ وہ (جانے سے) رک گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر بنا کر بھیج دیا، اور ان کے لیے ایک خط لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ خط اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک فلاں فلاں جگہ نہ پہنچ جائیں، اور فرمایا: ”اپنے کسی ساتھی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا۔“ تو جب انہوں نے خط پڑھا تو انا للہ پڑھا (استرجاع کیا)، پھر کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور مانی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بات بتائی اور ان کے سامنے خط پڑھا، تو دو آدمی واپس چلے گئے اور باقی آگے بڑھے، وہ ابن حضرمی سے ملے تو اسے قتل کر دیا، اور انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ دن رجب کا ہے یا جمادی کا، تو مشرکین نے مسلمانوں سے کہا: تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کیا! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں پوچھتے ہیں“ [سورۃ البقرہ: 217] آخر آیت تک، تو بعض لوگوں نے کہا: اگر انہیں کوئی گناہ نہیں بھی ہوا تو ان کے لیے کوئی اجر بھی نہیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 162، حدیث 1670»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1657 in Urdu