المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. مالك بن التيهان أبو الهيثم الأنصاري " عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين، من أخباره "
سیدنا مالک بن تیہان، ابوالہیثم انصاری، رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک، مدینہ میں مقیم رہے یہاں تک کہ سن بیس ہجری میں وہیں وفات پائی؛ ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 16616
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَ: فَاتَنِيَ الْعِشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَتَقَلَّبُ لَا يَأْتِينِي النَّوْمُ، فَقُلْتُ: لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي، فَفَعَلْتُ ثُمَّ اسْتَنَدْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَدَخَلَ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْكَرَنِي، وَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟، قُلْتُ: الْجُوعُ، قَالَ: وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى سَوَادَنَا أَنْكَرَهُ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَانِ؟» ، فَبَدَرَنِي عُمَرُ فَقَالَ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهَذَا عُمَرُ، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» ، فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ، قَالَ: «وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ الْوَاقِمِيِّ» ، فَأَتَيْنَا الْبَابَ فَاسْتَأْذَنَّا فَخَرَجَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» ، قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنْ حَشِّ بَنِي حَارِثَةَ، فَفَتَحْتِ الْبَابَ فَدَخَلْنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ حَامِلًا قِرْبَةً عَلَى ظَهْرِهِ حَتَّى عَلَّقَهَا فِي كَرْنَفَةٍ مِنْ كَرَانِفِ النَّخْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، مَا زَارَ النَّاسَ خَيْرٌ مِنْ زَوْرٍ زَارُونِي اللَّيْلَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِعِذْقِ بُسْرٍ فَجَعَلْنَا نَنْتَقِي فِي الْقَمَرِ وَنَأْكُلُ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَجَالَ فِي الْغَنَمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» ، أَوْ قَالَ: «ذَاتَ الدَّرِّ» ، فَذَبَحَ لَنَا شَاةً وَسَلَخَهَا وَقَطَّعَهَا فِي الْقِدْرِ، وَأَمَرَ الْمَرْأَةَ فَعَجَنَتْ وَخَبَزَتْ، ثُمَّ جَاءَنَا بِثَرِيدَةٍ وَلَحْمٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ تَخَفَّقْهَا الرِّيحُ فَبَرَدَتْ فَأَسْقَانَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ خَرَجْنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ، ثُمَّ لَمْ نَرْجِعْ حَتَّى أَصَبْنَا هَذَا، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِمِيِّ: «أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا؟» ، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ» ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» ، قَالَ: مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: «قُمْ فَاخْتَرْ مِنْهُمْ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي، قَالَ: «خُذْ هَذَا الْغُلَامَ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ» ، فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ لَهُ، فَقَالَتْ: فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ، قَالَ: وَمَا الْإِحْسَانُ؟، قَالَتْ: أَنْ تَعْتِقَهُ، قَالَ: هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِمِيِّ: «أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا؟» ، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ» ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» ، قَالَ: مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: «قُمْ فَاخْتَرْ مِنْهُمْ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي، قَالَ: «خُذْ هَذَا الْغُلَامَ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ» ، فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ لَهُ، فَقَالَتْ: فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ، قَالَ: وَمَا الْإِحْسَانُ؟، قَالَتْ: أَنْ تَعْتِقَهُ، قَالَ: هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک رات مجھ سے عشاء (کی نماز) رہ گئی، تو میں کروٹیں بدلنے لگا، نیند نہیں آ رہی تھی، میں نے سوچا: کیوں نہ میں مسجد کی طرف نکل جاؤں اور جو میسر ہو نماز پڑھ لوں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں مسجد کے ایک کونے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پہچان نہ سکے اور کہا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس وقت کس چیز نے نکالا؟ میں نے کہا: بھوک نے۔ انہوں نے کہا: اور مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) تشریف لے آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سیاہی (سائے) دیکھی تو اسے اجنبی سمجھا اور فرمایا: ”یہ دونوں کون ہیں؟“ عمر نے مجھ سے پہلے جواب دیا اور عرض کیا: یہ ابوبکر ہیں اور یہ عمر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے نکالا؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو نکالا ہے، چلو ہمارے ساتھ واقمی کے گھر چلیں۔“ ہم دروازے پر پہنچے اور اجازت مانگی تو ایک عورت باہر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے کہا: وہ بنو حارثہ کے باغ سے ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ اس نے دروازہ کھولا تو ہم اندر داخل ہوئے، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ اپنی پیٹھ پر ایک مشکیزہ اٹھائے آ گئے، یہاں تک کہ اسے کھجور کے تنے کی ایک شاخ پر لٹکا دیا، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: خوش آمدید! جو مہمان آج رات میرے پاس آئے ہیں ان سے بہتر کسی نے لوگوں کی زیارت نہیں کی۔ پھر وہ نیم پختہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے آئے، ہم چاندنی میں چن چن کر کھانے لگے، پھر انہوں نے چھری پکڑی اور بکریوں میں جا گھسے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دودھ دینے والی سے بچنا،“ یا فرمایا: ”دودھاری سے بچنا۔“ پس انہوں نے ہمارے لیے ایک بکری ذبح کی، اسے کھال اتار کر ٹکڑے کیے اور دیگ میں ڈالا، اور عورت کو حکم دیا تو اس نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی، پھر ہمارے پاس ثرید اور گوشت لے آئے، ہم نے کھایا، پھر وہ مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے، ہوا نے اسے لہرا کر ٹھنڈا کر دیا تھا، تو اس سے ہمیں پلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے، ہمیں بھوک کے سوا کسی چیز نے نہیں نکالا تھا، پھر ہم اس وقت تک واپس نہیں گئے جب تک یہ نعمت نہ مل گئی، یہ اسی نعمت میں سے ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقمی سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں جو یہ کام تمہاری طرف سے کر دے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میرے پاس پہلے قیدی آئیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں ایک خادم دلواؤں گا۔“ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آ گئے، وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا لایا؟“ اس نے کہا: وہی وعدہ جو آپ نے مجھ سے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور ان میں سے چن لو۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہی میرے لیے چن دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غلام لے لو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔“ وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور جو کچھ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا وہ اسے بتایا، تو اس نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، پس اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس نے کہا: اچھا سلوک کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کہ تم اسے آزاد کر دو۔ اس نے کہا: یہ اللہ عزوجل کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16616]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 251، حدیث 567»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16616 in Urdu