المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. مالك بن نضلة الجشمي
سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 16662
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: دَخَلَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِيَابِ أَسْمَالٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟» ، قَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللهُ، مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «فَلْيُرَ عَلَيْكَ مَا آتَاكَ اللهُ»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ مَرَرْتُ بِهِ فَأَبَى أَنْ يُقْرِيَنِي فَأَلْجَأَهُ الدَّهْرُ إِلَيَّ، أَفَأُقْرِيهِ أَمْ أَمْنَعُهُ؟، قَالَ: «بَلْ أَقْرِهِ»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ مَرَرْتُ بِهِ فَأَبَى أَنْ يُقْرِيَنِي فَأَلْجَأَهُ الدَّهْرُ إِلَيَّ، أَفَأُقْرِيهِ أَمْ أَمْنَعُهُ؟، قَالَ: «بَلْ أَقْرِهِ»
سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوالاحوص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد پھٹے پرانے کپڑوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے، اونٹ، گائے اور بکریاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے وہ تم پر ظاہر ہونا چاہیے۔“
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جس کے پاس سے میرا گزر ہوا اس نے میری مہمان نوازی سے انکار کیا، پھر زمانہ اسے مجبور کر کے میرے پاس لے آیا، تو کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں یا اسے روک دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16662]
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جس کے پاس سے میرا گزر ہوا اس نے میری مہمان نوازی سے انکار کیا، پھر زمانہ اسے مجبور کر کے میرے پاس لے آیا، تو کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں یا اسے روک دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16662]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 279، حدیث 613»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16662 in Urdu