المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. ومن غرائب حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی نادر روایات
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِيمَا يَرَى أَبُو بَكْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، وَالْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا وَالْعَرَايَا يَجِيءُ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْمُرُ لَهُ بِالنَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ وَلَمْ تَبْلُغْ وَهُوَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَهَا بِالتَّمْرِ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے اور تازہ انگور کو کشمش کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، اور عرایا میں رخصت دی۔ عرایا یہ ہے کہ کوئی دیہاتی اپنے چچازاد بھائی یا اپنے گھر والوں میں سے کسی کے پاس آئے، تو وہ اسے ایک یا دو کھجور کے درخت کا پھل دے دے جو ابھی پکا نہ ہو، اور وہ سفر پر جانا چاہتا ہو، تو اس کے لیے اسے خشک کھجور کے بدلے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 183، حدیث 1748»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1735 in Urdu