المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
288. عروة بن النزال، عن معاذ
عروہ بن نزال کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17440
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ النَّزَّالِ، أَوِ النَّزَّالِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبَرَنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «بَخٍ بَخٍ، لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟ فَأَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ، فَمَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ، وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ، وَأَمَّا ذِرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ، وَقِيَامُ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ» وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: ١٦] «أَوَلَا أُخْبِرُكُ بِأَمْلَكِ مِنْ ذَلِكَ؟» فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ أَوْ رَكْبٌ، فَحَسِبْتُ أَنْ يَشْغَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْلِكِ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ؟» فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ»
عروہ بن نزال، یا نزال بن عروہ، رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخ بخ، تم نے بہت بڑی چیز کے بارے میں پوچھا ہے، اور یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ اسے آسان کر دے: تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو۔ کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ کیا میں تمہیں اس دین کا سر، اس کا ستون، اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ رہا دین کا سر تو وہ اسلام ہے، جو اسلام لے آیا وہ محفوظ ہو گیا، اور رہا اس کا ستون تو وہ نماز ہے، اور رہی اس کی چوٹی تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد ہے۔ کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے، اور بندے کا رات کے پچھلے پہر (نماز کے لیے) کھڑا ہونا (بھی خیر کا دروازہ ہے)۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں﴾ [السجدہ: 16] ۔ ”کیا میں تمہیں اس سب سے بڑھ کر ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جو ان سب پر قابو رکھتی ہے؟“ اتنے میں ایک سوار، یا کچھ سوار، آ گئے، تو میں نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے مصروف کر دیں گے، چنانچہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سب سے بڑھ کر، جو ان سب پر قابو رکھتی ہے، وہ چیز نہ بتاؤں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم سے اس پر بھی مؤاخذہ ہوگا جو ہم بولتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے، اے معاذ! اور لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں کوئی چیز نہیں گراتی سوائے ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل کے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17440]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 147، حدیث 304»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17440 in Urdu