المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. أبو عبد الرحمن الفهري قيل اسمه الحارث بن هشام، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي بذلك
سیدنا ابوعبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ (کہا گیا: ان کا نام حارث بن ہشام تھا)
حدیث نمبر: 18945
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، وحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، وَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ لَهُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الرَّوَاحُ حَانَ الرَّوَاحُ؟، قَالَ: «أَجَلْ» فَقَالَ: «يَا بِلَالُ» فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةَ فَكَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ فَقَالَ: «يَا بِلَالُ أَسْرِجْ لِي فَرَسِي» ، فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ، وَلَيْسَ فِيهِمَا أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ، فَأَسْرَجَ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا فَصَافَفْنَاهُمْ عَشِيَّتَنَا، وَلَيْلَتَنَا فَتَشَامَتِ الْخِيلَانِ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ» ، ثُمَّ اقْتَحَمَ عَلَى فَرَسِهِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَأَخْبَرَنِي الَّذِي كَانَ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ ضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ، فَهَزَمَهُمُ اللهُ» ، قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ: فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ، عَنْ آبَائِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا: «لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّشْتِ» وَاللَّفْظُ لِعَفَّانَ
ابوعبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم ایک سخت گرمی کے دن چلے اور درختوں کے سائے میں پڑاؤ ڈالا۔ جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، میں نے عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا کوچ کا وقت آ گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا: ”اے بلال!“ تو وہ ایک درخت کے نیچے سے اس طرح اٹھے کہ ان کا سایہ پرندے کے سائے جیسا تھا، اور عرض کیا: حاضر ہوں، آپ پر قربان جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! میرے گھوڑے پر زین کسو۔“ چنانچہ انہوں نے ایک زین نکالی جس کی دونوں پٹیاں کھجور کی چھال سے بنی تھیں، ان میں کوئی زیب و زینت اور فخر نہ تھا۔ زین کسی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم نے اپنی شام اور رات ان کے مقابل صف بستہ گزاری، پھر دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر آگے بڑھے اور مٹی کی ایک مٹھی لی، مجھے اس شخص نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان کے چہروں پر پھینکی اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں“، چنانچہ اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ یعلی بن عطاء کہتے ہیں: مجھے ان کی اولاد نے اپنے آباء سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی ایسا نہ بچا جس کی آنکھیں اور منہ مٹی سے نہ بھر گئے ہوں، اور ہم نے آسمان اور زمین سے ایسی کھنکھناہٹ سنی جیسے لوہا تھالی پر رگڑا جا رہا ہو۔ (یہ الفاظ عفان کی روایت کے ہیں) [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18945]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 288، حدیث 741»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 18945 in Urdu