المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. الحسين بن علي، عن فاطمة
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19228
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، يَقُولُ: خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكْنَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ فَنَزَلَ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: ارْكَبْ يَا عَبْدَ اللهِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَقْسَامِ النُّعْمَانِ عَلَيْهِ حَتَّى أَطَاعَ لَهُ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ قَالَ: أَمَا إِذْ أَقْسَمْتَ فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ، فَسَأُرْدِفُكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَصَدْرِ فِرَاشِهِ وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا إِمَامًا يَجْمَعُ النَّاسَ عَلَيْهِ» فَقَالَ النُّعْمَانُ: صَدَقَتْ بِنْتُ مُحَمَّدٍ رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرًا يَقُولُ كَمَا قَالَتْ: فَاطِمَةُ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ َ: «إِلَّا مَنْ أَذِنَ فَرَكِبَ حُسَيْنٌ عَلَى السَّرْجِ وَرِدْفُهُ الْأَنْصَارِيُّ»
محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنی اس زمین کی طرف نکلے جو ظاہرِ حرہ میں تھی، اور ہم چل رہے تھے کہ ہم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے جو خچر پر سوار تھے، تو وہ اتر گئے اور اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قریب لائے اور کہا: سوار ہو جائیے، اے اللہ کے بندے! انہوں نے اسے ناپسند کیا، مگر نعمان مسلسل قسمیں دیتے رہے یہاں تک کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سوار ہونا مان لیا۔ انہوں نے کہا: چونکہ آپ نے قسم دی ہے تو آپ نے مجھ پر ایک ناپسندیدہ بات لازم کر دی، آپ اپنی سواری کے اگلے حصے پر سوار ہو جائیں، میں آپ کو پیچھے بٹھا لوں گا، کیونکہ میں نے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی سواری کے اگلے حصے، اپنے بستر کے اگلے حصے، اور اپنے گھر میں نماز پڑھانے کا سب سے زیادہ حقدار ہے، سوائے اس امام کے جس کے پاس لوگ جمع ہوتے ہیں۔“ تو نعمان نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے سچ کہا، میں نے اپنے والد بشیر کو بھی وہی کہتے سنا جو فاطمہ نے کہا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اس کے جسے اجازت دے دی جائے۔“ چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ زین پر سوار ہوئے اور انصاری (سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ) ان کے پیچھے بیٹھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19228]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 414، حدیث 1025»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 19228 in Urdu