المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب تأويل قوله إذ تلقونه بألسنتكم وتقولون بأفواهكم الآية
اللہ تعالیٰ کے فرمان ’جب تم اسے اپنی زبانوں سے لیتے اور اپنے مونہوں سے بلا علم وہ بات کہتے تھے‘ کی آیت کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19501
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" {إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} [النور: ١٥] «وَذَلِكَ حِينَ خَاضُوا فِي أَمْرِ عَائِشَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ سَمِعْتُ فُلَانًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا» ، فَقَالَ {تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} [النور: ١٥] ، يَعْنِي: «يَرْوِيهِ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ سَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ، وَسَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ» ، {وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ} [النور: ١٥] يَعْنِي: «بِأَلْسِنَتِكُمْ - يَعْنِي مِنْ قَذْفِهَا -» ، {مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ} [النور: ١٥] يَعْنِي: «مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ الَّذِي قُلْتُمْ مِنَ الْقَذْفِ حَقٌّ» ، {وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا} [النور: ١٥] يَقُولُ: «وَتَحْسَبُونَ أَنَّ الْقَذْفَ ذَنْبٌ هَيِّنٌ» ، {وَهُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ} [النور: ١٥] يَعْنِي: «فِي الْوِزْرِ»
سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”جب تم اسے اپنی زبانوں سے وصول کرتے تھے“ [سورۃ النور: 15] ، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے سیدہ عائشہ کے معاملے میں باتیں بنائیں، ان میں سے کوئی کہتا: میں نے فلاں کو یہ کہتے سنا۔ فرماتے ہیں: ”تم اسے اپنی زبانوں سے وصول کرتے تھے“، یعنی ایک دوسرے سے روایت کرتے کہ میں نے فلاں سے سنا، میں نے فلاں سے سنا۔ ”اور اپنے منہ سے کہتے تھے“ [سورۃ النور: 15] ، یعنی اپنی زبانوں سے — یعنی سیدہ عائشہ پر تہمت کے بارے میں — ”وہ بات جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا“ [سورۃ النور: 15] ، یعنی بغیر یہ جانے کہ جو تہمت تم نے لگائی وہ حق ہے۔ ”اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے“ [سورۃ النور: 15] ، فرماتے ہیں: اور تم یہ سمجھتے تھے کہ تہمت لگانا ایک ہلکا گناہ ہے۔ ”حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی“ [سورۃ النور: 15] ، یعنی گناہ کے بوجھ میں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19501]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 142، حدیث 197»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 19501 in Urdu