المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
331. جويرية بنت الحارث بن أبي ضرار بن الحارث بن عائذ بن مالك بن المصطلق من خزاعة، واسم المصطلق خزيمة
سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق، خزاعہ سے، رضی اللہ عنہا (مصطلق کا نام خزیمہ تھا)
حدیث نمبر: 20527
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ: هَلْ كَانَتِ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، «وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُونَ، وَنَعَمِهِمْ تُسْقَى فَقَتَلَ مُقَاتِلَهُمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ فَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ» حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَكَانَ يَوْمَئِذٍ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
ابن عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ کیا جنگ سے پہلے دعوتِ اسلام دینا ہوتا تھا؟ تو انہوں نے مجھے جواب لکھا کہ یہ ابتدائے اسلام میں ہوتا تھا، اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر اس حال میں اچانک حملہ کیا کہ وہ بے خبر تھے اور ان کے مویشی پانی پلائے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور ان کے قیدیوں کو گرفتار کیا، اور اسی میں سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔ یہ حدیث مجھے عبداللہ بن محمد نے بیان کی، جو اس دن اسی لشکر میں شامل تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20527]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 60، حدیث 156»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 20527 in Urdu