🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
412. عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين المكي، عن شهر بن حوشب، عن أسماء بنت يزيد
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین مکی کی شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20805
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: أَنَا الَّتِي قَيَّنَتْ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَهْدَيْتُهَا إِلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا أَجْلَسْتُهَا عَنْ يَمِينِهِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ عَائِشَةَ فَطَأْطَأَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: خُذِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلِي تِرْبَكِ» ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْرَبْ أَنْتَ، ثُمَّ نَاوِلْنِي فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ مَوَاضِعَ شَفَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسْوَةٌ قَرِيبٌ مِنَّا - أَوْ عِنْدَنَا - فَقَالَ: «نَاوِلِيهِ صَوَاحِبَاتِكِ» قُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ - أَوْ لَا نُرِيدُهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا» وَأَبْصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِحْدَانَا سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ: «يَا هَذِهِ، أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ» فَنَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ» ، رُبَّمَا قَالَ: «سِوَارًا مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ تَأْخُذُ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانٍ فَتُذِيقَهُ ثُمَّ تُلْطِخُهُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ہی وہ ہوں جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنوارا تھا، جب میں انہیں رخصت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب بٹھا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (برتن) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیا تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور شرمائیں، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لو، تو انہوں نے لے کر پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی سہیلی کو دے دو“ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ خود پی لیں، پھر مجھے دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر مجھے دیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹوں کی جگہ تلاش کر کے اسی جگہ سے پینے لگی، اور ہمارے قریب - یا ہمارے پاس - کچھ عورتیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی سہیلیوں کو دے دو“ انہوں نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں - یا ہم اسے نہیں چاہتیں - تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ اور بھوک اکٹھی نہ کرو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کے ہاتھ میں سونے کا کنگن دیکھا تو فرمایا: ”اے یہ پہننے والی! کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ اس کی جگہ تمہیں آگ کا کنگن پہنائے؟“ تو ہم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور آج تک نہیں جانتے کہ وہ کہاں گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے لیے کافی ہے کہ وہ چاندی کے موتی بنا لے“، شاید فرمایا: ”چاندی کا کنگن، پھر تھوڑا سا زعفران لے کر اسے گھول کر اس پر مل دے تو وہ سونے کی طرح ہو جائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20805]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 171، حدیث 434»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 20805 in Urdu