المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
412. عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين المكي، عن شهر بن حوشب، عن أسماء بنت يزيد
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین مکی کی شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20807
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ:" وَلَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا، وَتَعْنُسُ فَيَرْزُقَهَا اللهُ زَوْجًا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا، فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُكَفِّرُهَا فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ"
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کچھ عورتوں کے ساتھ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ میں نے عرض کیا: نعمتوں کی ناشکری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم میں سے کسی کی شادی میں دیر ہو جائے اور وہ اپنے والدین کے ہاں بن بیاہی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا کرے اور اس کے ذریعے مال اور اولاد بھی دے، پھر وہ کسی بات پر غصہ ہو کر ناشکری کرتے ہوئے کہہ دے: میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20807]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 173، حدیث 436»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 20807 in Urdu