🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
571. سعيد بن أبي هند، عن أم هانئ
سعید بن ابی ہند کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21424
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، فَوَجَدَ عِنْدِي رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ زَوْجِي قَدْ فَرَّا إِلَيَّ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْتُلَهُمَا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابِي، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا رَآنِي رَحَّبَ بِي، وَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكِ يَا أُمَّ هانِي؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلانِ مِنْ أَهْلِ زَوْجِي احْتَمَا بِي، فَوَجَدَهُمَا عَلِيٌّ عِنْدِي فَزَعَمَ أَنَّهُ قَاتِلُهُمَا، فَجِئْتُكَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ» ، ثُمَّ سَكَبْتُ لَهُ مَاءً فَاغْتَسَلَ فَسَتَرَتْهُ فَاطِمَةُ بِنْتُهُ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَأَلْقَى بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ سَجَدَاتٍ، وَذَلِكَ ضُحًى
سعید بن ابی ہند رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فتح کے موقع پر مکہ میں ان کے پاس آئے، تو انہوں نے ان کے پاس ان کے شوہر کے خاندان کے دو آدمی پائے جو ان کے پاس بھاگ کر آئے تھے، تو وہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اپنا دروازہ ان پر بند کر دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی بلندی پر تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”اے ام ہانی! تمہیں کیا لے کر آیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے شوہر کے خاندان کے دو آدمی میری پناہ میں آئے، تو علی نے انہیں میرے پاس پا کر انہیں قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، اسی سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم نے پناہ دی ہم نے بھی اسے پناہ دی، اور جسے تم نے امان دی ہم نے بھی اسے امان دی۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے سے پردہ کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو کپڑا اتار کر پھینک دیا، پھر کھڑے ہو کر آٹھ سجدوں (رکعتوں) کی نماز پڑھی اور یہ چاشت کا وقت تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21424]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 431، حدیث 1056»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21424 in Urdu