المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
663. أم زياد الأشجعية
سیدہ ام زیاد اشجعیہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21794
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا غَزَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ سَادِسَةَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" بِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ وَرَأَيْتُ فِيهِ الْغَضَبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجْنَا وَمَعَنَا دَوَاءٌ نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى، وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي السَّوِيقَ، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ وَنُعِينُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ: لَنَا أَقِمْنَ فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَ لَنَا كَمَا قَسَمَ لِلرِّجَالِ، قُلْتُ: فَمَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: تَمْرًا"
حشرج بن نباتہ اشجعی اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ عورتوں میں سے چھٹی کے طور پر جہاد کے لیے گئیں۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کسی کو بھیجا، اور فرمایا: ”کس کی اجازت سے تم نکلی ہو؟“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں غصے کے آثار دیکھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم اس لیے نکلی ہیں کہ ہمارے پاس دوا ہے جس سے ہم زخمیوں کا علاج کرتی ہیں، تیر پکڑاتی ہیں، ستو پلاتی ہیں، بال کاتتی ہیں اور اللہ کی راہ میں مدد کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہری رہو۔“ پھر جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیبر فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جیسے مردوں کو دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کھجور۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21794]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 137، حدیث 332»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21794 in Urdu