المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. بشر بن حرب، عن جرير
بشر بن حرب کی سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُزَيْقٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: شَهِدْنَا الْمَوْسِمَ فِي حَجَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِي حَجَّةُ الْوَدَاعِ فَبَلَغْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ غَدِيرُ خُمٍّ فَنَادَى: الصَّلَاةُ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعْنَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسِ بِمَ تَشْهَدُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: «ثُمَّ مَهْ؟» قَالُوا: وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: «فَمَنْ وَلِيُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَانَا، قَالَ: «مَنْ وَلِيُّكُمْ؟» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى عَضُدِ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فَأَقَامَهُ فَنَزَعَ عَضُدَهُ، فَأَخَذَ بِذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ يَكُنِ اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَيَاهُ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، اللهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ مِنَ النَّاسِ فَكُنْ لَهُ حَبِيبًا، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَكُنْ لَهُ مُبْغِضًا، اللهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ أَحَدًا أَسْتَوْدِعُهُ فِي الْأَرْضِ بَعْدَ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ غَيْرَكَ، فَاقْضِ فِيهِ بِالْحُسْنَى» قَالَ بِشْرٌ: قُلْتُ:" مَنْ هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي"
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حج کے موسم میں حاضر ہوئے، اور یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا، تو ہم غدیر خم نامی جگہ پر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا: نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ مہاجرین اور انصار سب جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم کس بات کی گواہی دیتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ فرمایا: ”پھر کیا؟“ لوگوں نے کہا: اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ فرمایا: ”تمہارا ولی (کارساز) کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہمارے مولا ہیں۔ فرمایا: ”تمہارا ولی کون ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بازو پر مارا اور انہیں کھڑا کیا، پھر ان کا بازو کھینچا اور ان کی کلائیاں پکڑ لیں، پھر فرمایا: ”جس کا مولا اللہ اور اس کا رسول ہو، تو یہ (علی) بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔ اے اللہ! جو لوگوں میں سے اس سے محبت رکھے تو اس کا محب ہو جا، اور جو اس سے بغض رکھے تو اس کا مبغض ہو جا۔ اے اللہ! میں زمین میں ان دو نیک بندوں کے بعد تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جس کے سپرد اسے کروں، سو تو اس کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ فرما۔“ بشر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ دو نیک بندے کون ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 357، حدیث 2505»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 2492 in Urdu