سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: فَرْضِ زَكَاةِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کی زکاۃ (یعنی صدقہ فطر) کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2502
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2502]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا صدقہ (صدقۃ الفطر) ہر آزاد، غلام، مذکر اور مؤنث پر ”کھجور اور جو کا ایک صاع“ مقرر فرمایا تھا۔ بعد میں لوگوں نے اس کی جگہ گندم کا نصف صاع ٹھہرا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1504)، 71 (1507)، 74 (1509)، 77 (1511)، 78 (1512)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن ابی داود/الزکاة19 (1615)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (675)، (تحفة الأشراف: 510)، موطا امام مالک/الزکاة28 (52)، مسند احمد 2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137، سنن الدارمی/الزکاة27 (1668)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1826) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس وقت (عہد معاویہ رضی الله عنہ میں) نصف صاع گیہوں قیمت میں جو کے ایک صاع کے برابر ہو گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه