سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ: التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2555
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَذَكَرَ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 , وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سورة الحشر آية 18 , تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں (میاں بیوی) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ ٹوٹنے نہ پائیں، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے، اور اللہ سے ڈرو، اور تم میں سے ہر شخص یہ (دھیان رکھے اور) دیکھتا رہے کہ آنے والے کل کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے، آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، اپنے گیہوں کے صاع میں سے، اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے“، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی“، چنانچہ انصار کا ایک شخص (روپیوں سے بھری) ایک تھیلی لے کر آیا جو اس کی ہتھیلی سے سنبھل نہیں رہی تھی بلکہ سنبھلی ہی نہیں۔ پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر اکٹھے ہو گئے۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور کھل اٹھا ہے گویا وہ سونے کا پانی دیا ہوا چاندی ہے (اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اس کے لیے دہرا اجر ہو گا: ایک اس کے جاری کرنے کا، دوسرا جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، تو اسے اس کے جاری کرنے کا گناہ ملے گا اور جو اس اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2555]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے، ننگے بدن، ننگے پاؤں، تلواریں لٹکائے ہوئے۔ وہ اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے۔ ان کی تنگ حالی اور بھوک دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور متغیر (مغموم) ہو گیا۔ آپ اندر (گھر) گئے (مگر کچھ نہ ملا تو) پھر باہر تشریف لے آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے اذان و اقامت کہی۔ آپ نے جماعت کروائی، پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے توڑنے سے (بھی) ڈرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔“ اور دوسری آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (اگلی زندگی) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔“ پھر فرمایا: ”آدمی اپنے دینار سے صدقہ کرے، اپنے درہم سے صدقہ کرے، اپنے کپڑے سے صدقہ کرے، گندم کا صاع دے، کھجور کا صاع دے۔“ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: ”چاہے کھجور کا ٹکڑا ہی صدقہ کرے۔“ انصار میں سے ایک آدمی اتنی بھاری تھیلی اٹھا کر لایا کہ اس کی ہتھیلی اس سے عاجز ہو رہی تھی بلکہ عاجز ہو ہی گئی تھی، پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتیٰ کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے۔ ایک غلے کا اور ایک کپڑوں کا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور یوں (خوشی سے) دمکنے لگا گویا کہ اس پر سونا چڑھا دیا گیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اپنا ثواب بھی ملے گا اور جتنے لوگ اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے، ان کے اجر میں سے بھی اسے حصہ ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اسی طرح جو شخص اسلام میں برا کام جاری کر دے، اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے، لیکن اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة20 (1017)، العلم6 (1017)، سنن الترمذی/العلم15 (2675)، سنن ابن ماجہ/المقدمة14 (203) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3232)، مسند احمد 4/357، 358، 359، 362، 361، 362، سنن الدارمی/المقدمة44 (529) (مثل الترمذی) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ: الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا".
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صدقہ کرو اس لیے کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی صدقہ لے کر چلے گا (کہ کسی کو دے) مگر جسے وہ صدقہ دیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، آج نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة9 (1411)، 16 (1424)، الفتن25 (7120)، صحیح مسلم/الزکاة18 (1011)، (تحفة الأشراف: 3286)، مسند احمد (4/306) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آج میں مالدار ہو گیا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه