🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الْقَمِيصِ، لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کو قمیص پہننے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2670
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2670]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، پاجامہ (شلوار)، ٹوپی دار کرتا (برانڈی) اور موزے نہ پہنے، ہاں اگر اس کے پاس جوتے نہ ہوں تو چمڑے کے موزے پہن سکتا ہے مگر انھیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔ اور ایسے کپڑے نہ پہنو جنھیں زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 21 (1542)، اللباس 13 (5803)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن ابی داود/المناسک 32 (1824)، سنن ابن ماجہ/الحج 20 (2932)، (تحفة الأشراف: 8325)، موطا امام مالک/الحج 3 (8)، 4 (9)، مسند احمد (2/63، سنن الدارمی/المناسک 9 (1841)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2675) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں