سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: التَّلْبِيدِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2683
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: لوگ تو حلال ہو گئے ہیں مگر آپ عمرہ کر کے حلال نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوند سے چپکایا ہے اور قربانی کے جانور کو قلادہ (ہار) پہنا دیا ہے، اس لیے میں حلال نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ حج سے حلال ہو جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج34 (1566)، 107 (1697)، 126 (1725)، والمغازی77 (4398)، صحیح مسلم/الحج25 (1229)، سنن ابی داود/الحج24 (1806)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3046)، (تحفة الأشراف: 15800)، موطا امام مالک/الحج 58 (180)، مسند احمد (6/283، 284، 285) ویأتی عند المؤلف برقم: 2783 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ۲؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2684
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2684]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبید کی حالت میں «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ پکارتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج19 (1540)، اللباس69 (5915)، صحیح مسلم/الحج3 (1184)، سنن ابی داود/الحج12 (1747)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3047) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6976)، مسند احمد (2/121، 131) ویأتي عند المؤلف 2748 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه