🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. بَابُ: الْحَجِّ بِغَيْرِ نِيَّةٍ يَقْصِدُهُ الْمُحْرِمُ
باب: دوسرے کی نیت پر نیت کر کے محرم حج کا تلبیہ پکارے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ مِنْ الْيَمَنِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ حَيْثُ حَجَّ، فَقَالَ:" أَحَجَجْتَ" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ؟ قُلْتَ: قَالَ: قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ" , فَفَعَلْت، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً فَفَلَتْ رَأْسِي، فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ، فَأْتَمُّوا بِهِ، وَقَالَ عُمَرُ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے (مجھ سے) پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے آپ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ (یہ سن کر) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں (وہ جیسا بتائیں) ان کی پیروی کرو۔ (اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب (قرآن) کو لیں تو وہ (حج اور عمرہ کو) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2743]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (حجۃ الوداع کے موقع پر) یمن سے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء (مکہ) میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیسے باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اس احرام کے ساتھ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام ہے، «لَبَّيْكَ» لبیک کہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کی سعی کرو اور حلال ہو جاؤ۔ میں نے اسی طرح کیا، پھر میں (اپنے قبیلے کی) ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ میں لوگوں کو اسی بات کا فتویٰ دیا کرتا تھا (کہ تمتع جائز ہے) حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آ گیا تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: اے ابو موسیٰ! اپنا یہ فتویٰ روک لو۔ شاید تم نہیں جانتے کہ امیر المومنین نے تمہارے بعد حج کے بارے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے؟ میں نے کہا: اے لوگو! جس شخص کو ہم نے یہ فتویٰ دیا ہو، وہ ذرا انتظار کر لے (یعنی اس پر عمل نہ کرے)، حضرت امیر المومنین تمہارے پاس تشریف لانے والے ہیں تو تم ان کے حکم کی پابندی کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (آئے تو میرے استفسار پر) کہنے لگے: اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں تو وہ ہمیں مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کو لیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے تھے حتیٰ کہ قربانیاں ذبح ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2739 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2744
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا، قَالَ لِعَلِيٍّ: بِمَا أَهْلَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ الْهَدْيُ، قَالَ:" فَلَا تَحِلَّ".
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم احرام نہ کھولو (جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤ)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2744]
حضرت محمد (باقر) رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے جانور لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور لے کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے کیا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا ہے: میں احرام باندھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح، اور میرے ساتھ قربانی کے جانور بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم (عمرہ کر کے) حلال نہ ہونا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2713 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ , قَالَ جَابِرٌ: قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ" قَالَ: وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2745]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن کی حکمرانی سے فارغ ہو کر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تم نے کیا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کے جانور (قربانی والے دن) ذبح کرنا اور اس وقت تک محرم رہو جیسے کہ تم ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 32 (1557)، (تحفة الأشراف: 2457)، مسند احمد (3/305، 317، 366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2746
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِي، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتْ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، قَالَ: فَتَخَطَّيْتُهُ، فَقَالَتْ لِي: مَا لَكَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" كَيْفَ صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ، قَالَ:" فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر (امیر) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: تو تم نے کیسے کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2746]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن پر حاکم مقرر فرمایا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ مجھے بھی ان کے ساتھ کچھ اوقیے ملے تھے، پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (یمن سے حجۃ الوداع میں مکہ) آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کو خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں (حضرت فاطمہ کی طرف توجہ کیے بغیر) گھر سے گزر گیا تو وہ مجھے کہنے لگیں: کیا وجہ ہے؟ (آپ توجہ نہیں فرما رہے)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خود حکم دیا ہے اور وہ حلال ہو چکے ہیں۔ میں نے کہا: میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح احرام باندھا ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیسے احرام باندھا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قربانی کے جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2726 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، تقدم (2726) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں