سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. بَابُ: كَيْفَ يَفْعَلُ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ
باب: حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھنے والے کے پاس ہدی نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 2934
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَأَهْلَلْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَطُفْنَا، أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا فَهَابَ الْقَوْمُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ" , فَحَلَّ الْقَوْمُ، حَتَّى حَلُّوا إِلَى النِّسَاءِ، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُقَصِّرْ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔ تو لوگ ڈرے (کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا“، تو سب لوگ (احرام کھول کر) حلال ہو گئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2934]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینے سے) چلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ چلے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔ جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے ٹیلے پر چڑھی تو آپ نے حج اور عمرہ دونوں کی لبیک کہی۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرح لبیک کہی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے اور ہم نے طواف کر لیا، تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں۔ سب لوگ ڈر گئے (اور ہچکچائے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔“ (یہ سن کر) سب حلال ہو گئے حتیٰ کہ انہوں نے اپنی عورتوں (بیویوں) سے جماع کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے اور یومِ نحر تک بال بھی نہیں کٹوائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2663 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم طرفه (2663،2756) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343