سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
197. بَابُ: التَّلْبِيَةِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفہ میں تلبیہ پکارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3009
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈر رہے ہیں، (انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے) تو ابن عباس رضی اللہ عنہما (یہ سن کر) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: «لبيك اللہم لبيك لبيك» (افسوس کی بات ہے) علی رضی اللہ عنہ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3009]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا۔ وہ فرمانے لگے: کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو لبیک پکارتے نہیں سنتا؟ میں نے کہا: وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے خیمے سے نکلے اور بلند آواز سے پکارا: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں“، تعجب ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5630) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن