سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
200. بَابُ: قَصْرِ الْخُطْبَةِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفہ کے دن خطبہ میں اختصار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: الرَّوَاحَ , إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ , فَقَالَ: هَذِهِ السَّاعَةَ , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ:" إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ فَأَقْصِرِ الْخُطْبَةَ، وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا: اسی وقت، انہوں نے کہا: ہاں (اسی وقت)، سالم کہتے ہیں: میں نے حجاج سے کہا: اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3012]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفے کے دن، جونہی سورج ڈھلا، حجاج بن یوسف کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے فرمایا: اگر تو سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو ابھی (خطبے اور نماز کے لیے) چل۔ وہ کہنے لگا: اس وقت؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ حضرت سالم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حجاج سے کہا: اگر تو آج سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو خطبہ مختصر کرنا اور نماز جلد شروع کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (بطور تصدیق) فرمایا: اس نے درست کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3008 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن