سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ: غَزْوَةِ التُّرْكِ وَالْحَبَشَةِ
باب: ترک اور حبشہ سے جنگ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3178
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ:" وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115" , فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ، فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرْقَةٌ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ، فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَآهَا سَلْمَانُ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي , وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلَّا كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الْأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ لَهُ: مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ، وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ، وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ".
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا (میں نے ایسا ہی دیکھا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے (پردے اٹھا کر) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا“، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف (کے قصبات و دیہات) دکھائے گئے (کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: ”حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں“ (لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3178]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک ایسی چٹان لوگوں کے سامنے آئی جو لوگوں اور (خندق کی) کھدائی کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اور اپنی چادر خندق کے کنارے رکھ دی اور یہ آیت پڑھ کر ضرب لگائی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] ”اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔“ (آپ کی ضرب سے) پتھر کا تیسرا حصہ اڑ گیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی۔ پھر آپ نے دوبارہ ضرب لگائی اور وہی آیت پڑھی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] ”اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات صدق و انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔“ اور مزید تیسرا حصہ ٹوٹ گیا، پھر ایک چمک پیدا ہوئی جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور یہی آیت پڑھی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] ”اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔“ اور باقی پتھر بھی ریزہ ریزہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکلے، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! جب آپ ضربیں لگا رہے تھے تو اس کے ساتھ چمک پیدا ہوتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سلمان! تو نے وہ (چمک) دیکھی تھی؟“ انہوں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جب پہلی ضرب لگائی تھی تو مجھے کسریٰ کے شہر اور اردگرد کے بہت سے دوسرے شہر دکھائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ آپ کے پاس موجود صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ یہ شہر ہم پر فتح فرمائے اور ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عنایت فرمائے اور ہمارے ہاتھوں ان کے علاقے تاراج فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) ”جب میں نے پھر دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ یہ علاقے ہمارے لیے فتح فرمائے، ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عطا فرمائے اور ان کے علاقے ہمارے ہاتھوں تاراج فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) ”پھر میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھلائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حبشیوں کو اپنے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمہیں تمہارے حال پر رہنے دیں اور ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 8 (4302) مختصرا، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3179
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3179]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مسلمان ترکوں سے لڑائی لڑیں گے۔ وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے چمڑا چڑھائی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔ وہ بالوں کے کپڑے پہنیں گے اور بالوں والے جوتے پہنیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 18 (2912)، سنن ابی داود/الملاحم 9 (4303)، (تحفة الأشراف: 12766)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 95 (2928)، 96 (2929)، والمناقب25 (3590)، سنن ابن ماجہ/الفتن 36 (4096)، مسند احمد (2/239، 271، 300، 319، 338، 475، 493، 530) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کے لباس بالوں سے بنے ہوئے ہوں گے یا ان کے لباس ایسے گھنے اور لمبے ہوں گے کہ لباس کی طرح لٹک رہے ہوں گے۔ ۲؎: یعنی ان کی جوتیوں پر بال ہوں گے یا ان کی جوتیاں بالوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم