سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: اسْتِئْمَارِ الثَّيِّبِ فِي نَفْسِهَا
باب: بیوہ کی شادی کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 3267
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ:" إِذْنُهَا أَنْ تَسْكُتَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3267]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے اجازت حاصل کر لی جائے، اور کنواری لڑکی کا بھی نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے مشورہ کر لیا جائے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے معلوم ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ خاموش رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15433)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1871)، مسند احمد (2/229، 250، 279، 425، 434)، سنن الدارمی/النکاح13 (2232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ تو ایسے مواقع پر بہت شرماتی ہے بول نہیں پاتی ہے۔ ۲؎: یعنی وہ چپ رہتی ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس رشتہ پر راضی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح