سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: مُوَاجَهَةِ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ بِالطَّلاَقِ
باب: شوہر عورت کا منہ دیکھتے ہی اسے طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 3446
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ".
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فوراً) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3446]
اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی، تو انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت عروہ رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلابی بیوی جب آپ کے پاس آئی تو کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بہت بڑی ذات کی پناہ میں آئی ہے، لہٰذا اپنے گھر چلی جا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 3 (5254)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 18 (2050)، تحفة الأشراف: 16512) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري