سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: عِظَةِ الإِمَامِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةَ عِنْدَ اللِّعَانِ
باب: لعان کرتے وقت امام اور حاکم مرد اور عورت کو سمجھائے اور نصیحت کرے۔
حدیث نمبر: 3503
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ:" سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ مِنْ مَقَامِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: نَعَمْ، سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ؟ وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى عَلَى امْرَأَتِهِ فَاحِشَةً، إِنْ تَكَلَّمَ فَأَمْرٌ عَظِيمٌ؟ وَقَالَ عَمْرٌو: أَتَى أَمْرًا عَظِيمًا، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ" الْأَمْرَ الَّذِي سَأَلْتُكَ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَوَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَوَعَظَهَا، وَذَكَّرَهَا، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا (کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں «ارأیت» کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے)، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے (تو کیا کرے؟) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ۱؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے (جو ناقابل برداشت ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا (اس روایت میں ـ «فأمر عظیم» کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے «اتی امراً عظیماً» کے الفاظ استعمال کیے ہیں)۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہو گیا، (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت: «والذين يرمون أزواجهم» سے لے کر «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن كان من الصادقين» تک نازل فرمائیں، (اس کارروائی کا) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ (اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی) تو آپ نے (یہ کارروائی) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ (شوہر) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3503]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان میں تفریق کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کہوں۔ میں اسی وقت اپنی جگہ سے اٹھ کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کی طرف چل پڑا۔ میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! کیا لعان کرنے والے خاوند بیوی میں مستقل جدائی کر دی جائے گی؟ آپ کہنے لگے: ضرور، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ (یعنی تعجب ہے کہ تجھے اس مشہور حکم کا علم نہیں۔) سب سے پہلے جس شخص نے لعان کے بارے میں پوچھا تھا، وہ فلاں بن فلاں تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرمائیے ایک آدمی اپنی بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھتا ہے، اب اگر وہ شور مچاتا ہے تو یہ بھی بہت بے عزتی کی بات ہے، اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو ایسی بات پر چپ رہنا بھی بہت مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے کچھ دن بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا: جو مسئلہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، میں واقعتاً اس میں مبتلا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات اتار دیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ...﴾ [سورة النور: 6] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگا دیں... عورت پانچویں قسم یہ کھائے کہ اگر میرا خاوند سچا ہے تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے آدمی کو بلایا۔ اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔“ وہ کہنے لگا: قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق نبی بنایا ہے! میں نے (ذرہ بھر) جھوٹ نہیں بولا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بلایا۔ اسے بھی وعظ و نصیحت فرمائی۔ وہ بھی کہنے لگی: قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق نبی بنایا ہے! یقیناً وہ جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے آدمی سے قسمیں لیں، اس نے اللہ کے نام کی چار قسمیں کھائیں کہ یقیناً میں سچا ہوں اور پانچویں قسم یہ کھائی کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ پھر دوسرے نمبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے قسمیں لیں اس نے بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی چار قسمیں کھائیں کہ یقیناً یہ جھوٹا ہے اور پانچویں قسم یہ کھائی کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں مستقل جدائی ڈال دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1493)، سنن الترمذی/الطلاق 22 (1102)، صحیح البخاری/الطلاق 32 (5311)، 35 (5315)، 53 (5350)، الفرائض 17 (6748)، سنن ابی داود/الطلاق 27 (2258)، (تحفة الأشراف: 7058)، مسند احمد (2/12)، سنن الدارمی/النکاح 39 (2275) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سے کہا جائے گا کہ چار گواہ لاؤ، چار گواہ نہ پیش کر سکو تو کوڑے کھاؤ۔ ۲؎: لعان کرنے والوں کے مابین جدائی کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ لعان کے بعد دونوں کے مابین جدائی ہو جائے گی، حاکم کے فیصلہ کی ضرورت نہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے زادالمعاد (۵/۳۸۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم