🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي النُّحْلِ
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3712
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ فَوَهَبَهَا لِي، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى أُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ طَلَبَتْ مِنِّي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: يَا بَشِيرُ أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ مَا وَهَبْتَ لِهَذَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ".
نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں نے میرے والد سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے کو کچھ عطیہ دو، تو انہوں نے: مجھے عطیہ دیا۔ میری ماں نے کہا: میں اس پر راضی (و مطمئن) نہیں ہوں جب تک کہ میں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا دوں، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا، اس وقت میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں رواحہ کی بیٹی نے مجھ سے کچھ عطیہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی خوشی اس میں ہے کہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں۔ تو آپ نے فرمایا: ”بشیر! کیا تمہارا اس کے علاوہ بھی کوئی بیٹا ہے؟“، کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے جیسا اسے دیا ہے اسے بھی دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی پر گواہ نہیں بنتا“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3712]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری والدہ نے میرے لیے میرے والد سے کسی عطیے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مجھے عطیہ دے دیا۔ وہ کہنے لگیں: میں تو تب راضی ہوں گی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا، میں ابھی بچہ تھا، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنتِ رواحہ نے اس کے لیے مجھ سے کسی عطیے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ میں آپ کو اس عطیے کا گواہ بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بشیر! کیا اس کے علاوہ تیرے اور بیٹے بھی ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے انہیں بھی ایسا عطیہ دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3709 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3713
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ , أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَمَرَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا نُعْمَانَ بِصَدَقَةٍ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ لِهَذَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے نعمان کو کچھ ہبہ کروں، اور اس کی فرمائش یہ بھی ہے کہ جو میں اسے دوں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم مجھے ظلم و زیادتی پر گواہ نہ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3713]
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اس کے بیٹے نعمان کو کوئی عطیہ دوں اور پھر آپ کو اس (عطیے) پر گواہ بھی بناؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے ان کو بھی ایسا تحفہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3705 (صحیح) (سند میں انقطاع ہے، مگر دیگر سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3714
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ فَاشْهَدْ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟“، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہے) آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3714]
حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا ہے، آپ گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیری اولاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کی طرح انہیں بھی عطیات دیے ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہ بنوں؟“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6580) (صحیح) (یہ مرسل ہے ’’عبداللہ بن عتبہ تابعی ہیں“مگر اگلی سندوں سے یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: تمہارا دوسرے بیٹوں کو محروم کر کے ایک کو دینا اور اس پر مجھ سے گواہ بننے کے لیے کہنا گویا یہ مطالبہ کرنا ہے کہ میں اس ظلم و زیادتی کی تائید کروں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3715
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ فِطْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , يَقُولُ: ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ عَلَى شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ:" أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ , وَصَفَّ بِيَدِهِ بِكَفِّهِ أَجْمَعَ كَذَا أَلَا سَوَّيْتَ بَيْنَهُمْ".
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ۱؎؟“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3715]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: میرے والد محترم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیہ پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ تیری اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری ہتھیلی کھول کر ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تو نے ان میں برابری کیوں نہ کی؟“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11639)، مسند احمد (4/268، 276) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب تمہارے کئی لڑکے ہیں تو لینے دینے میں سب کے ساتھ انصاف و مساوات کا سلوک کیوں نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3716
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ , يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: سَوِّ بَيْنَهُمْ".
نعمان رضی الله عنہ نے دوران خطبہ کہا کہ میرے والد مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، وہ آپ کو ایک عطیہ پر گواہ بنا رہے تھے تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ تمہارے اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں (اور بھی بیٹے ہیں) تو آپ نے فرمایا: ”ان کے درمیان انصاف اور برابری کا معاملہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3716]
حضرت نعمان رضی اللہ عنہما خطبے میں فرما رہے تھے: مجھے میرے والد محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ وہ آپ کو اس عطیے پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟“ وہ کہنے لگے: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ان میں برابری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3717
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمُ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”(لوگو!) اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3717]
حضرت مفضل بن مہلب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو خطبے کے دوران میں فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو۔ اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 85 (3544)، (تحفة الأشراف: 11640)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 13 (2587)، صحیح مسلم/الہبات 3 (1623)، مسند احمد (4/278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اولاد کے درمیان مساوات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے گا، مذکورہ احادیث کی روشنی میں علماء اسے واجب قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ زندگی میں عطیہ یا ہبہ اور بخشش کے سلسلے میں لڑکا اور لڑکی کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے، اور لڑکی کے دوگنا لڑکے کو دینے کا مسئلہ موت کے بعد وراثت کی تقسیم میں ہے۔ (واللہ اعلم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں