🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: الْحَلِفِ بِالْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3804
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّكُمْ تُنَدِّدُونَ , وَإِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ , تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ , وَتَقُولُونَ: وَالْكَعْبَةِ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادُوا أَنْ يَحْلِفُوا أَنْ يَقُولُوا: وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَيَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شِئْتَ".
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: تم لوگ (غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو: کعبے کی قسم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں: کعبے کے رب کی قسم! اور کہیں: جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3804]
جہینہ قبیلے کی ایک عورت حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: تم بھی شرک کرتے ہو اور غیر اللہ کو معبود بناتے ہو کیونکہ تم کہتے ہو: «مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشِئْتَ» جو اللہ تعالیٰ چاہے اور آپ چاہیں اور تم کعبہ کی قسم کھاتے ہو۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانے لگیں تو کہیں: «وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» رب کعبہ کی قسم! اور کہیں: «مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شِئْتَ» جو اللہ تعالیٰ چاہے، پھر آپ چاہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18046)، مسند احمد (6/371، 372)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 284 (986) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اچھی بات کی رہنمائی کوئی بھی کرے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، خصوصا جب اس کا تعلق توحید و شرک کے مسائل سے ہو تو اسے بدرجہ اولیٰ قبول کرنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں