سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: تَحْرِيمِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3826
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 عَائِشَةُ , وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 , لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا“۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ (التحریم: ۱) «إن تتوبا إلى اللہ» (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) ”(اے نبی کی بیویو!) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہتر ہے)“ (التحریم: ۴) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے (مگر اب نہیں پیوں گا) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی“ (التحریم: ۳) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی ایک بیوی) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں زیادہ دیر ٹھہرے تھے کیونکہ آپ وہاں سے شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہے کہ بلاشبہ میں آپ سے «مَغَافِير» ”مغافیر“ کی بو محسوس کر رہی ہوں، کیا آپ نے مغافیر (گوند) کھائی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لائے تو اس نے یہ لفظ کہہ دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں سے شہد پیا ہے، اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا۔“ تو پھر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے؟“ آگے حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور (اپنی غلطی سے) توبہ کرو (تو تمہیں لائق ہے)۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے راز کی بات کہی، اس میں اشارہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی طرف کہ ”میں نے تو شہد پیا ہے، (آئندہ نہیں پیوں گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن