سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الأَثَرَةِ
باب: اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4159
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ , أَمَّا سَيَّارٌ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَأَمَّا يَحْيَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ"، قَالَ شُعْبَةُ: سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ:" حَيْثُمَا كَانَ" , وَذَكَرَهُ يَحْيَى. قَالَ شُعْبَةُ: إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا , فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ، أَوْ عَنْ يَحْيَى.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے «حیث ما کان» کا لفظ ذکر نہیں کیا اور یحییٰ نے ذکر کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: اگر میں اس میں کوئی لفظ زائد کروں تو وہ سیار سے مروی ہو گا یا یحییٰ سے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4159]
حضرت عبادہ بن ولید کے دادا محترم (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم اپنی تنگی و آسانی اور اپنی پسند و ناپسند میں (ہر حال میں) آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے۔ اور ہم صاحبانِ اقتدار سے ان کا اقتدار نہیں چھینیں گے۔ اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں، حق بات پر قائم رہیں گے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ (کی اطاعت) کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔“ شعبہ نے کہا: «حَيْثُ كَانَ» کے الفاظ سیار نے ذکر نہیں کیے، یحییٰ نے ذکر کیے ہیں۔ (سیار نے صرف «وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ» کے الفاظ کہے ہیں)۔ شعبہ نے کہا: اگر میں نے اس میں کچھ زیادتی کی ہے تو وہ سیار یا یحییٰ کی طرف سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4145 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4160
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ , فِي مَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَعُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر (امیر و حاکم کی) اطاعت لازم ہے۔ خوشی میں، غمی میں، تنگی میں، خوشحالی میں اور دوسروں کو تم پر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4160]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے ابوہریرہ!) تو اپنی پسند و ناپسند اور ہر تنگی و آسانی میں امیر کی اطاعت پر کاربند رہنا، اگرچہ تجھ پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 8 (1836)، (تحفة الأشراف: 12330)، مسند احمد (2/381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم