سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: بَيْعَةِ مَنْ بِهِ عَاهَةٌ
باب: کسی بھیانک بیماری والے کی بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4187
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ، يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ ”لوٹ جاؤ، میں نے تمہاری بیعت لے لی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4187]
آلِ شرید کے ایک شخص عمرو کے والد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص بھی آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا: ”واپس چلے جاؤ (میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں) میں نے تیری بیعت قبول کرلی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطب 44 (3544)، (تحفة الأشراف: 4837)، مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ اس کے آنے سے لوگ گھن محسوس کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض کمزور ایمان والے وہم میں بھی مبتلا ہو جائیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ خود آپ کو گھن نہیں آئی، نہ آپ کو کسی وہم میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا، آپ سے بڑھ کر صاحب ایمان کون ہو سکتا ہے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم